بنگلورو،14؍اگست(ایس او نیوز) شہر بھر میں فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے جاری مہم کی رفتار میں اور تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کو تاکید کی ہے کہ آئندہ شہر میں فلیکس اور بینر لگاکر قانون شکنی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔
عدالت نے سخت ہدایت دی ہے کہ اگست کے اختتام تک شہر میں کہیں بھی ایک بھی فلیکس یا بینر نظر نہیں آنا چاہئے ۔اس سلسلے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کے سماعت کے دوران بی بی ایم پی افسروں نے بتایاکہ شہر بھر میں تمام اشتہارا تک ہٹانے کے لئے 5؍ ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے بی بی ایم پی نے نوٹس جاری کردی ہے، عدالت نے اس پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اتنی مہلت دینے کی کیا ضرورت تھی۔
چیف جسٹس دیپک مہیشوری کی قیادت والی ڈویژنل بنچ نے بی بی ایم پی کو ہدایت دی کہ آئندہ بی بی ایم پی اور عدالت کی حکم عدولی کرتے ہوئے اگر فلیکس اور بینر لگائے گئے تو اس کے ذمہ داروں پر فوجداری کیس درج کیا جائے۔ چیف جسٹس نے بی بی ایم پی افسروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں اب بی بی ایم پی کی بہانے بازی نہیں چلے گی۔ شہر بنگلور کی خوبصورتی جلد از جلد بحال کی جائے ۔ اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔
بی بی ایم پی کی طرف سے اشتہاری پالیسی وضع کرنے میں تاخیر پر بھی چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ اشتہاری پالیسی وضع کرنے کے لئے افسروں کی میٹنگ طلب کرنے کی ہدایت بھی عدالت کو دینا پڑے یہ افسوسناک بات ہے۔ بی بی ایم پی کو قبل از وقت یہ کام انجام دینا چاہئے تھا، انہوں نے افسروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ سرکار سے تنخواہ نہیں لیتے ؟۔
شہر کو فلیکس اور بینروں سے پاک کرنے اور شہر میں جہاں بھی اشتہار لگے گا اس کے لئے بی بی ایم پی اپنی واضح پالیسی مرتب کرتے ہوئے جلد از جلد نہ صرف عدالت کو پیش کیا جائے بلکہ ویب سائٹ پر بھی اس کا اجراء کیا جائے۔ اشتہاری پالیسی جاری کرنے کے لئے بی بی ایم پی نے جو ویب سائٹ بنانے کا وعدہ کیاتھا عدالت نے اس ویب سائٹ کا پتہ دریافت کیا تو افسر اس کا جواب نہیں دے پائے۔ فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے بی بی ایم پی کی مہم کے دوران بی بی ایم پی کے عملے پر حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اس حملے کے لئے ذمہ دارافراد کو گرفتار کیوں نہیں کیاگیا۔اس مرحلے میں بی بی ایم پی کے وکیل سری ندھی نے بتایا کہ ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا ، اس معاملے کی سماعت کو 18 اگست تک ملتوی کیا گیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ اس سے پہلے ہی عدالت کو واقف کرانا چاہئے تھا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ملزمین کے خلاف فوری طور پر چارج شیٹ داخل کرکے انہیں جیل بھیج دیا جائے۔